ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / میکے ڈاٹ پراجکٹ پر کمار سوامی کا ماہرین قانون وآبپاشی سے تبادلۂ خیال، پراجکٹ کو منظوری دینے پر وزیر اعلیٰ کا مرکز سے اظہار تشکر

میکے ڈاٹ پراجکٹ پر کمار سوامی کا ماہرین قانون وآبپاشی سے تبادلۂ خیال، پراجکٹ کو منظوری دینے پر وزیر اعلیٰ کا مرکز سے اظہار تشکر

Sat, 01 Dec 2018 22:01:43    S.O. News Service

بنگلورو،یکم دسمبر(ایس اونیوز) ریاستی حکومت کی طرف سے مضافات شہر میکے ڈاٹ میں شہر بنگلور اور آس پاس کے علاقوں کو پینے کے پانی کی سربراہی کے لئے آبی ذخیرہ تعمیر کرنے کا جو منصوبہ تیار کیا گیا ہے، اس کی تمام تفصیلات مرکزی حکومت کو روانہ کرنے کے ساتھ اس کے لئے کام آگے بڑھانے کے مقصد سے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے آج ماہرین قانون اور ماہرین آبپاشی کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی ۔ مرکزی آبی کمیشن کی طرف سے اس پراجکٹ کی شروعات کے لئے منظوری ملتے ہی ریاستی حکومت کی طرف سے اس پر کام کی شروعات کی تیاریاں زوروں سے کی جانے لگی ہیں تو دوسری طرف تملناڈو کی طرف سے اس منصوبے کو منظور کئے جانے کی شدت سے مخالفت کی جارہی ہے۔ مرکزی آبی کمیشن کی طرف سے ریاستی حکومت کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ میکے ڈاٹ منصوبے کی تفصیلی پراجکٹ رپورٹ جلد روانہ کی جائے۔ کمیشن کی اس ہدایت کے خلاف حکومت تملناڈو سپر یم کورٹ سے رجوع ہوچکی ہے ، اسے دیکھتے ہوئے قانونی جنگ کو کس طرح آگے بڑھایا جائے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ کمار سوامی اور وزیر آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے ماہرین قانون سے مشورہ کیا اور اس پراجکٹ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ حکومت تملناڈو کی طرف سے کس بنیاد پر اس پراجکٹ کی مخالفت کی جارہی ہے اس سلسلے میں ریاست کے وکلاء سے مشوروں کے بعد ریاستی حکومت نے اپنا موقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی حال میں اس پراجکٹ کو آگے بڑھانا حکومت کا منشاء ہے ، اس میں کوئی غفلت نہیں کی جائے گی۔ شہر بنگلور اور آس پاس کے علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت کو دور کرنے اور ساتھ ہی بجلی کی قلت سے نپٹنے کے لئے یہاں برقی توانائی کی پیداوار کا منصوبہ مرتب کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت کا استدلال ہے کہ کرناٹک سے تملناڈو کی طرف بہنے والا 177 ٹی ایم سی فیٹ پانی سمندر میں ضائع ہورہا ہے، اس میں سے شہر بنگلور میں پینے کے لئے اور بجلی کی پیداوار کے لئے 35 ٹی ایم سی فیٹ پانی استعمال میں لایا جائے گا لیکن حکومت تملناڈو اس پر آمادہ نہیں ہے۔ اسی لئے اس نے میکے ڈاٹ پراجکٹ کی مخالفت کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہاسن میں آج نئے بس اسٹانڈ کے قریب نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی طرف سے 1865کروڑ روپیوں کی لاگت پر مختلف ترقیاتی کاموں کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ 12سال قبل ہی انہوں نے ریاست کے زراعت کے جدید طریقوں کو اپنانے پر توجہ دی تھی، اور اسرائیلی ٹیکنک سے کاشتکاری کو اپنایا تھا۔ آنے والے دنوں میں اس شعبے میں اور جدید کاری اپنائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ریاست میں بائیو ایندھن کے استعمال کو بڑھاوا دیا جارہاہ ے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں زراعت کو فروغ دینے کے لئے حکومت کی رہنمائی کی غرض سے ہر ضلع میں 60 ماہرین پر مشتمل ضلع زرعی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ زراعت کے ساتھ ریاست کے تمام شعبوں کی ترقی کو حکومت نے یکساں طور پر اپنایا ہے۔ سابق وزیراعظم اور اپنے والد ایچ ڈی دیوے گوڈا کے مرکزی وزیر برائے بری نقل وحمل نتن گڈکری سے قریبی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہی تعلقات کا نتیجہ ہے کہ کرناٹک کے کئی منصوبوں کو مسٹر گڈکری نے منظوری دی ہے۔مختلف پراجکٹوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھتے ہوئے مسٹر گڈکری نے کہاکہ دو الگ الگ سیاسی پارٹیوں سے وابستگی کے باوجود دیوے گو ڈا سے ان کے تعلقات انتہائی دوستانہ رہے ہیں۔ گڈکری نے کہاکہ بحیثیت وزیر شروع سے ان کا یہی موقف رہا ہے کہ جو پراجکٹ ممکن ہو اسے منظورکرنے میں انہوں نے کوئی تاخیر نہیں کی ہے۔ پچھلے پانچ سال کے دوران کرناٹک میں سڑکوں کی تعمیر ، مرمت ، توسیع وغیرہ کے لئے دو لاکھ کروڑ روپیوں کے پراجکٹوں کو منظوری دی گئی ہے۔ان میں سے بعض پراجکٹ مکمل بھی ہوچکے ہیں۔ مختلف شعبوں میں کرناٹک کی ترقی کو قابل رشک قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہاکہ اس کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے ہر ممکن تعاون دیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی مرکزی حکومت تعاون دینے کے لئے تیار ہے۔ پولاور آبی ذخیرے کی تعمیر کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے دس ہزار کروڑ روپے مہیا کرانے کا تیقن دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آندھرا پردیش کی دریائے گوداوری سے بہہ کر سمندر میں ضائع ہو نے والے پانی کے بہتراستعمال کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے یہ امداد دی جارہی ہے۔ 
 


Share: